Story of a Poor boy in Pakistan
آج ایک فیسبک فرینڈ کی طرف سے انباکس مسیج آیا اور پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ھو۔۔۔ میں نے جواب دیا کہ میں یونیورسٹی میں پڑھتا ھوں۔۔۔۔ اس نے بولا کہ آپ خوش قسمت ھو۔
اس کی یہ بات مجھے عجیب لگا اور اس سے پوچھا کہ ایسا کیوں بولا، اور آپ کیا کرتے ھو۔ اس نے بولا کہ میں مزدوری کرتا ھوں۔ اور میں دوسری جماعت تک پڑھا ھوں۔ لڑکے کی عمر سولہ سال ھے- سکول چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو بولا کہ دوسری جماعت تک پڑھنے کے بعد غربت کے باعث مجبورآ سبق چھوڑنا پڑا۔ ایک طرف تو تعلیمی اخراجات کے پیسے نہیں تھے تو دوسری طرف گھر کو سپورٹ کرنے والا کوئی نہیں تھا- سو مجبورآ میں اور میرے بڑے بھئی نے گھر کے لئے روزی روٹی کمانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ بولا کہ میں 11 سال کا تھا کہ مزدوری کے لئے نکل پڑا۔ باپ کی نوکری ھے لیکن وہ سارا تنخواہ فضول کاموں میں اڑا دیتا ھے، اور ھمیں اسے سمجھانے کی جرآت بھی نہیں کر سکتے- گھر کے کل سات افراد ھے جسے ھم دو بھئی مزدوری کرکے سپورٹ کرتے ھیں-
افسوس اس بات پہ ھے کہ اس لڑکے کا تعلق پنجاب سے ھے- سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا پنجاب میں بھی ایک عام لڑکے کے لئے مفت تعلیم میسر نہیں؟
روز روز کے نئے نئے پروجیکٹس کا افتتاح اور عوامی خدمات کے بڑے بڑے دعوے کیا صرف شوشہ ھے؟
اگر پنجاب میں رھنے والا ایک غریب لڑکا مفت تعلیم حاصل نہیں ککر سکتا تو باقی پاکستان والوں کا تو گلہ ھی نہیں-
خادم اعلی پنجاب کا نام کس لئے؟ کیا صرف اس لئے اعلی لوگوں کی خدمت کرے-
وہ اس عمر میں جاب/مزدوری/کام کامتلاشی ھے جس عمر میں لڑکے سکول جاتے ھیں- جس عمر میں لڑکے کھیلتے ھیں-
پاکستان کی آئین میں درج ھے کہ 18 سال سے کم عمر مزدوری نہیں کریگا، لیکن آئین کو تب سامنے لایا جاتا ھے جہاں آئین لاگو کرنے سے فائدہ ھو-
یقین کرے میں تو اس کا حال سن کر بہت افسردہ ھوا- سب دعا کرے کہ اللہ اسے تعلیم کا حاصل کرنے کا موقع دے اور گھر کی سپورٹ کے لئے اللہ کوئی وسیلہ بنائے- اور اس طرح جتنے بھی برے حال لوگ ھیں اس کا اللہ مددگار بنے- آمین
اس کی یہ بات مجھے عجیب لگا اور اس سے پوچھا کہ ایسا کیوں بولا، اور آپ کیا کرتے ھو۔ اس نے بولا کہ میں مزدوری کرتا ھوں۔ اور میں دوسری جماعت تک پڑھا ھوں۔ لڑکے کی عمر سولہ سال ھے- سکول چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو بولا کہ دوسری جماعت تک پڑھنے کے بعد غربت کے باعث مجبورآ سبق چھوڑنا پڑا۔ ایک طرف تو تعلیمی اخراجات کے پیسے نہیں تھے تو دوسری طرف گھر کو سپورٹ کرنے والا کوئی نہیں تھا- سو مجبورآ میں اور میرے بڑے بھئی نے گھر کے لئے روزی روٹی کمانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ بولا کہ میں 11 سال کا تھا کہ مزدوری کے لئے نکل پڑا۔ باپ کی نوکری ھے لیکن وہ سارا تنخواہ فضول کاموں میں اڑا دیتا ھے، اور ھمیں اسے سمجھانے کی جرآت بھی نہیں کر سکتے- گھر کے کل سات افراد ھے جسے ھم دو بھئی مزدوری کرکے سپورٹ کرتے ھیں-
افسوس اس بات پہ ھے کہ اس لڑکے کا تعلق پنجاب سے ھے- سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا پنجاب میں بھی ایک عام لڑکے کے لئے مفت تعلیم میسر نہیں؟
روز روز کے نئے نئے پروجیکٹس کا افتتاح اور عوامی خدمات کے بڑے بڑے دعوے کیا صرف شوشہ ھے؟
اگر پنجاب میں رھنے والا ایک غریب لڑکا مفت تعلیم حاصل نہیں ککر سکتا تو باقی پاکستان والوں کا تو گلہ ھی نہیں-
خادم اعلی پنجاب کا نام کس لئے؟ کیا صرف اس لئے اعلی لوگوں کی خدمت کرے-
وہ اس عمر میں جاب/مزدوری/کام کامتلاشی ھے جس عمر میں لڑکے سکول جاتے ھیں- جس عمر میں لڑکے کھیلتے ھیں-
پاکستان کی آئین میں درج ھے کہ 18 سال سے کم عمر مزدوری نہیں کریگا، لیکن آئین کو تب سامنے لایا جاتا ھے جہاں آئین لاگو کرنے سے فائدہ ھو-
یقین کرے میں تو اس کا حال سن کر بہت افسردہ ھوا- سب دعا کرے کہ اللہ اسے تعلیم کا حاصل کرنے کا موقع دے اور گھر کی سپورٹ کے لئے اللہ کوئی وسیلہ بنائے- اور اس طرح جتنے بھی برے حال لوگ ھیں اس کا اللہ مددگار بنے- آمین
0 comments:
Post a Comment