فاٹا اور افواج پاکستان کی ذمہ داریاں---FATA and Responsibilities of Pak Army
![]() |
| عبدالمجید داوڑ |
فاٹا اور افواج پاکستان کی ذمہ داریاں:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(قسط دوئم)
ـــــــــــــــــــــ
محکمہ تعلیم:
ـــــــــــــــــــــ
محکمہ تعلیم کی حالت بھی محکمہ صحت سے کم خراب نہیں، فاٹا میں مڈل اور پرائمری سکولوں کی بھرمار ہے، اکثریت سکولوں کی عمارتیں حجروں اور آسامیاں تنخواہوں کے حصول کے ذرائع کے علاوہ کوئی تعمیری مقصدنہیں رکھتیں۔غیرفعال سکولوں کے مالکان اور غیر حاضر اساتذہ ماہانہ بنیاد پر محکمہ تعلیم فاٹا کے مقامی دفاتر کے کلرکوں اور اعلی افسران کو ادائیگی کرتے ہیں، محکمہ تعلیم فاٹا کے وہ سرکاری ملازمین جو خلیجی ممالک میں ہیں، سرکاری تنخواہ میں فیصدی لحاظ سے محکمہ تعلیم کو معاوضہ (بھتہ) ادا کرتے ہیں ، ایسے اساتذہ کی بھی کمی نہیں جو اپنی جگہ دوسرے فرد کو ڈیوٹی پر بھیجتے ہیں،یا تین چار اساتذہ مل کر ایک بندہ رکھ لیتے ہیں، اس امر کو جائز گراداننے کیلئے ، اساتذہ کرام نے علماء سے باقاعدہ فرمائشی فتوے لئے ہوئے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(قسط دوئم)
ـــــــــــــــــــــ
محکمہ تعلیم:
ـــــــــــــــــــــ
محکمہ تعلیم کی حالت بھی محکمہ صحت سے کم خراب نہیں، فاٹا میں مڈل اور پرائمری سکولوں کی بھرمار ہے، اکثریت سکولوں کی عمارتیں حجروں اور آسامیاں تنخواہوں کے حصول کے ذرائع کے علاوہ کوئی تعمیری مقصدنہیں رکھتیں۔غیرفعال سکولوں کے مالکان اور غیر حاضر اساتذہ ماہانہ بنیاد پر محکمہ تعلیم فاٹا کے مقامی دفاتر کے کلرکوں اور اعلی افسران کو ادائیگی کرتے ہیں، محکمہ تعلیم فاٹا کے وہ سرکاری ملازمین جو خلیجی ممالک میں ہیں، سرکاری تنخواہ میں فیصدی لحاظ سے محکمہ تعلیم کو معاوضہ (بھتہ) ادا کرتے ہیں ، ایسے اساتذہ کی بھی کمی نہیں جو اپنی جگہ دوسرے فرد کو ڈیوٹی پر بھیجتے ہیں،یا تین چار اساتذہ مل کر ایک بندہ رکھ لیتے ہیں، اس امر کو جائز گراداننے کیلئے ، اساتذہ کرام نے علماء سے باقاعدہ فرمائشی فتوے لئے ہوئے ہیں۔
ان حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگرفاٹا کا موازنہ پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کیا جائے تو اعداد و شمار پریشان کن ہیں۔ پاکستان کی مجموعی شرح تعلیم 43.92 فیصد، پختونخواہ کی 35.41 فیصد جبکہ فاٹا کی 17.42 فیصد ہے۔ جبکہ مردوں کی شرح خواندگی پاکستان کی بحیثیت مجموعی54.81 فیصد، پختونخواہ کی 51.39 فیصد جبکہ فاٹا میں یہی شرح 29.51 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار فاٹا کی سرکاری ویب سائٹ کے ہیں۔ خواتین کی شرح خواندگی پاکستان میں مجموعی طور پر 32.02 فیصد، پختونخواہ میں 18.82 فیصد جبکہ فاٹا میں 3.00 فیصد ہے۔ان گوشواروں کی روشنی میں افواج پاکستان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ محکمہ تعلیم فاٹا کا انتظامی اختیار لے کر مذکورہ سکولوں کو فعال، اپ گریڈ، فنڈز کی جانچ پڑتال، آسامیوں پر بھرتی شدہ افراد کی تعلیمی اسناد کی تصدیق، اسامی کی اہلیت، غیر حاضر اساتذہ کی برطرفی، نئے اور قابل افراد کی بھرتی وغیرہ جیسے دورس اور دیرپا اقدامات کے ذریعے نا صرف فاٹا کے نظام تعلیم کو معیار کی بلندیوں پر پہنچا ئیں بلکہ قبائلی عوام کے دل جیتنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔نیز افواج پاکستان کی پیشہ ور ماہرین تعلیم کے زیر سرپرستی فاٹا میں نئے کیڈٹ، گیریژن اور پوسٹ گریجویٹ ملٹری کالجز کا قیام بھی ناگزیر ہے۔
ترقیاتی کاموں کا کنٹرول:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک تو فاٹا کا فنڈ شرمناک اور افسوسناک حد تک کم ہے ،دوئم پورے فاٹا کی سات ایجنسیوں اور ایف آر ریجنز کیلئے مختص 19 ارب روپے کی یہ قلیل رقم آڈٹ سے بھی مبراء ہے، سوئم محکمہ سی این ڈبلیو کے افسران کی کٹوتیاں، کمیشنز اور ٹھیکداروں کی حرس کو اگر شامل کرلیا جائے تو جوں کی صرف کھال بچتی ہے۔لہذا ترقیاتی کاموں کا شعبہ انتہائی توجہ طلب ہے۔فوج کا ادارہ ایف ڈبلیو او چونکہ ماہرانہ کام میں ید طولی رکھتا ہے متبادل کے طور پر فاٹا کے ترقیاتی کام کی سرپرستی کا صحیح حقدار ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ فوج کے مذکورہ محکمے کے کام کرنے کا نرخ ، سول اداروں سے کئی گناہ ذیادہ ہے، لہذا اگر ایف ڈبلیو او فاٹا کیلئے خصوصی رعایتی پیکیچ پر کام نہیں کرتاتو سرپرستی کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، لہذا افواج پاکستان فاٹا کیلئے یا تو رعایتی نرخوں پر ایف ڈبلیو او کو قائل کریں یا اپنی انجنیرنگ کور پریہ ذمہ داری ڈالیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک تو فاٹا کا فنڈ شرمناک اور افسوسناک حد تک کم ہے ،دوئم پورے فاٹا کی سات ایجنسیوں اور ایف آر ریجنز کیلئے مختص 19 ارب روپے کی یہ قلیل رقم آڈٹ سے بھی مبراء ہے، سوئم محکمہ سی این ڈبلیو کے افسران کی کٹوتیاں، کمیشنز اور ٹھیکداروں کی حرس کو اگر شامل کرلیا جائے تو جوں کی صرف کھال بچتی ہے۔لہذا ترقیاتی کاموں کا شعبہ انتہائی توجہ طلب ہے۔فوج کا ادارہ ایف ڈبلیو او چونکہ ماہرانہ کام میں ید طولی رکھتا ہے متبادل کے طور پر فاٹا کے ترقیاتی کام کی سرپرستی کا صحیح حقدار ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ فوج کے مذکورہ محکمے کے کام کرنے کا نرخ ، سول اداروں سے کئی گناہ ذیادہ ہے، لہذا اگر ایف ڈبلیو او فاٹا کیلئے خصوصی رعایتی پیکیچ پر کام نہیں کرتاتو سرپرستی کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، لہذا افواج پاکستان فاٹا کیلئے یا تو رعایتی نرخوں پر ایف ڈبلیو او کو قائل کریں یا اپنی انجنیرنگ کور پریہ ذمہ داری ڈالیں۔
چیک پوسٹیں نفرتوں کا اہم ذریعہ:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فاٹا میں قائم چیک پوسٹوں پر لگی میلوں لمبی گاڑیوں کی قطاریں اس جنگ کا ایک الگ المیہ ہیں، روایتی چیکنگ کے پرانے طریقوں کے بموجب گاڑیوں کی ان لائنوں میں روزانہ کی بنیاد پر زخمی وبیمار افراد، حاملہ خواتین اور شیرخوار بچوں کی اموات واقع ہوتی ہیں، جو کہ نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ نفرتوں اور کدورتوں کابیج بھی۔ لہذا افوج پاکستان کو چاہئے فاٹا کے مرکزی چیک پوسٹوں پر بم اور بارود ڈیٹیکنگ (Vehicle & Person Detecting scanner) لگائیں، ہائی پکسل وزوم سی سی ٹی کیمرے لگائیں تاکہ گاڑیوں کی نقل وحمل میں رکاوٹ ختم کی جاسکے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فاٹا میں قائم چیک پوسٹوں پر لگی میلوں لمبی گاڑیوں کی قطاریں اس جنگ کا ایک الگ المیہ ہیں، روایتی چیکنگ کے پرانے طریقوں کے بموجب گاڑیوں کی ان لائنوں میں روزانہ کی بنیاد پر زخمی وبیمار افراد، حاملہ خواتین اور شیرخوار بچوں کی اموات واقع ہوتی ہیں، جو کہ نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ نفرتوں اور کدورتوں کابیج بھی۔ لہذا افوج پاکستان کو چاہئے فاٹا کے مرکزی چیک پوسٹوں پر بم اور بارود ڈیٹیکنگ (Vehicle & Person Detecting scanner) لگائیں، ہائی پکسل وزوم سی سی ٹی کیمرے لگائیں تاکہ گاڑیوں کی نقل وحمل میں رکاوٹ ختم کی جاسکے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(نوٹ: شاید بعض دوستوں کو میرے خیالات پر اعتراض ہو، تاہم فوج ہی مذکورہ محکموں کو ٹھیک کر سکتی ہے، اگر یہ محکمے کچھ سال بھی فوجی طرز پر چلائے جائیں تو امید ہے کہ قبائلی عوام کیلئے فائدے کا موجب ہونگے ورنہ کرپشن کا منبع اور ہمارے بچوں کی صحت، تعلیم و ترقی کے قاتل۔۔۔۔۔لہذا بعض حقائق کھلے دل سے قبول کرنے ہونگے، کیونکہ جب تک ایف سی آر ہے فوج موجود رہے گی اور فوج کی موجودگی سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے،ہمارے گھر اگر مسمار کئے جارہے ہیں تو کم از کم سرکاری اداروں کی تعمیر نو و بحالی تو ہمارا حق ہے، اگر یہ ادارے مکمل بحال ہوجاتے ہیں تو انشاء اللہ ہمارے بچوں کا مستقبل کافی حد تک محفوظ ہوجائے گا)
تحریر: عبدالمجید داوڑ
تحریر: عبدالمجید داوڑ

0 comments:
Post a Comment