Miserable situation of Railway in Bannu بنوں میں ریلوے کی حالت زار
فرنگیوں نے اپنے دور حکومت میں راولپنڈی سے براستہ کوھاٹ بنوں، سرائے نورنگ، ٹانک اور مانزئی تک ریولے ٹریک بچھایا جو آمدورفت کا اچھا اور سستا ذریعہ تھا- اس پر تھوڑا کام کرکے براستہ نتائی بلوچستان تک بڑھایا جا سکتا تھا- انگریز کے جانے کے بعد ریلوے نظام کو برابر نظرانداز کرتا رھا اور 1991 میں یہ ریلوے سسٹم بند کیا گیا- کچھ علاقوں پر کنٹونمنٹ بورڈ نے قبضہ کیا اور دوسرے اکثر علاقوں پر یونیورسٹی کے دو کیمپسز کے ساتھ ساتھ مارکیٹ اور پلازے تعمیر کروائے- ریلوے ٹریک کہا گیا-
جو علاقے کنٹونمنٹ بورڈ کے قبضے میں آئے اس پر آرمی کے کچھ ڈپو بنائے گئے- نیو اڈہ سے لے کر ڈپو تک کا علاقہ کرایہ یا لیز پر دیئے گئے جن کا پیسہ کنٹونمنٹ کو جاتا ھے-
ریلوے کا جو علاقہ یونیورسٹی کو دی گئی اس پر یوینورسٹی کے دو کیمپس بنائے گئے جن میں آئی ایم ایس اور آئی ای سی ایس ڈپارٹمنٹ شامل ھے- اور باقی علاقہ پر مارکیٹ اور پلازے بنا کر لیز پر دیئے گئے جن کا پیسہ یونیورسٹی انتظامیہ کو جاتی ھے- حال ھی میں نیو کچہری کے سامنے یونورسٹی پلازے کے نام سے ایک بڑے شاپنگ مارکیٹ پر کام شروع کیا گیا ھے جو آخری مراحل میں ھے-
جو علاقے کنٹونمنٹ بورڈ کے قبضے میں آئے اس پر آرمی کے کچھ ڈپو بنائے گئے- نیو اڈہ سے لے کر ڈپو تک کا علاقہ کرایہ یا لیز پر دیئے گئے جن کا پیسہ کنٹونمنٹ کو جاتا ھے-
ریلوے کا جو علاقہ یونیورسٹی کو دی گئی اس پر یوینورسٹی کے دو کیمپس بنائے گئے جن میں آئی ایم ایس اور آئی ای سی ایس ڈپارٹمنٹ شامل ھے- اور باقی علاقہ پر مارکیٹ اور پلازے بنا کر لیز پر دیئے گئے جن کا پیسہ یونیورسٹی انتظامیہ کو جاتی ھے- حال ھی میں نیو کچہری کے سامنے یونورسٹی پلازے کے نام سے ایک بڑے شاپنگ مارکیٹ پر کام شروع کیا گیا ھے جو آخری مراحل میں ھے-
زیر نظر تصویر میں ایک ریلوے ورکشاپ نظر آرھا ھے جو بنوں یونیورسٹی کے آئی ای سی ایس ڈپارٹمنٹ کے احاطہ میں آتا ھے- یہاں ریل گاڑی کی بوگیاں، سپئر پارٹس اور دوسری متعلقہ سامان ھوا کرتی تھی-



0 comments:
Post a Comment