ریلوے گیٹ بنوں کی موجودہ حالت زار Railway Gate Bannu
آج مہردل خٹک کے بارے کچھ پڑھنے کا موقع ملا- مہردل خٹک حاجی مرزا علی خان عرف فقیر ایپی کے قری ساتھیوں میں سے تھے- معلومات کے مطابق اس نے بنوں سٹی پر دو بار حملہ کیا- ایک بار پریٹی گیٹ اور دوسری بار ریلوے گیٹ کو پار کر حملہ کیا- انگریز کے دور میں بنوں سٹی پر حفاظتی چاردیواری بنائی گئی تھی جس کے مختلف گیٹ تھے جیسا کہ نورڑ گیٹ (نیراڑ کیٹ)، ھنجل گیٹ، منڈان گیٹ، ریلوے گیٹ، لکی گیٹ، پریٹی گیٹ، پوڑی گیٹ، سوکڑی گیٹ وغیرہ.
مجھے خیال آیا کہ کیوں نۂ ریلوے گیٹ کی موجودہ حالت کا جائزہ لے-
گیٹ کی حالت دیکھنے مطلوبہ جگہ پہنچا تو کوئی نام و نشان نظر نہیں آ رھا تھا- کچھ وقت کھڑے رھنے کے بعد نزدیک ڈیوٹی پر مامور پولیس والے کے پاس گیا- پولیس والا 50 سال سے زیادہ عمر کا تھا- پولیس والے سے تعارف کرنے کے بعد ریلوے گیٹ کے بارے میں پوچھا تو اسے گیٹ کی اصلی وقعت مشلوم نہیں تھی- نزدیک گھاس بیچنے والے سفید ریش بوڑھے تھے- ان سے پوچھا گیا تو بولے کہ گیٹ کو تو مارکیٹ بنانے کے لئے ختم کیا گیا ھے لیکن وہ جگہ بتا دی- ریلوے روڈ، سبزی منڈی اور مال منڈی سے آنے والا روڈ جس جگہ ملتے ھیں وھاں ریلوے گیٹ موجود تھا لیکن اب اس کے ستونوں کے لئے کی گئی کھدائی کا بھی پتہ نہیں لگ رھا تھا- گیٹ کے اندرون ایک کینال بنائی گئی ھے جسے منڈان کینال کہا جاتا ھے- یہ منڈان کے علاقے کی طرف جاتی ھے- کینال کے مغرب جانب پولیس چوکی ھے جو انگریز کے وقت میں بنائی گئی تھی- پولیس والے نے مجھے چوکی کا اندرونی منظر بھی دکھایا جو کافی خستہ حال تھی- چوکی شاید گیٹ کی پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اھلکاروں کے لئے بنائی گئی تھی- ریلوے گیٹ کے جنو مغرب میں ایک نیا مارکیٹ اور ساتھ ھی گھاس منڈی ھے-
گیٹ کے جنوب مشرق میں مال منڈی اور شمال مشرق میں سبزی منڈی واقع ھے-
ریلوے گیٹ سے تقریبأ دو سو میٹر جنوب کی جانب جائے تو حفاظتی دیوار اصل حالت میں موجود ھے- اور وھاں سے منڈان گیٹ کا احاطہ شروع ھوتا ھے- ریلوے گیٹ شمال کی جانب لکی گیٹ کے دیوار کے ذریعے جوڑا ھوا تھا لیکن اب وہ بھی نہیں ھے-
مجھے خیال آیا کہ کیوں نۂ ریلوے گیٹ کی موجودہ حالت کا جائزہ لے-
گیٹ کی حالت دیکھنے مطلوبہ جگہ پہنچا تو کوئی نام و نشان نظر نہیں آ رھا تھا- کچھ وقت کھڑے رھنے کے بعد نزدیک ڈیوٹی پر مامور پولیس والے کے پاس گیا- پولیس والا 50 سال سے زیادہ عمر کا تھا- پولیس والے سے تعارف کرنے کے بعد ریلوے گیٹ کے بارے میں پوچھا تو اسے گیٹ کی اصلی وقعت مشلوم نہیں تھی- نزدیک گھاس بیچنے والے سفید ریش بوڑھے تھے- ان سے پوچھا گیا تو بولے کہ گیٹ کو تو مارکیٹ بنانے کے لئے ختم کیا گیا ھے لیکن وہ جگہ بتا دی- ریلوے روڈ، سبزی منڈی اور مال منڈی سے آنے والا روڈ جس جگہ ملتے ھیں وھاں ریلوے گیٹ موجود تھا لیکن اب اس کے ستونوں کے لئے کی گئی کھدائی کا بھی پتہ نہیں لگ رھا تھا- گیٹ کے اندرون ایک کینال بنائی گئی ھے جسے منڈان کینال کہا جاتا ھے- یہ منڈان کے علاقے کی طرف جاتی ھے- کینال کے مغرب جانب پولیس چوکی ھے جو انگریز کے وقت میں بنائی گئی تھی- پولیس والے نے مجھے چوکی کا اندرونی منظر بھی دکھایا جو کافی خستہ حال تھی- چوکی شاید گیٹ کی پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اھلکاروں کے لئے بنائی گئی تھی- ریلوے گیٹ کے جنو مغرب میں ایک نیا مارکیٹ اور ساتھ ھی گھاس منڈی ھے-
گیٹ کے جنوب مشرق میں مال منڈی اور شمال مشرق میں سبزی منڈی واقع ھے-
ریلوے گیٹ سے تقریبأ دو سو میٹر جنوب کی جانب جائے تو حفاظتی دیوار اصل حالت میں موجود ھے- اور وھاں سے منڈان گیٹ کا احاطہ شروع ھوتا ھے- ریلوے گیٹ شمال کی جانب لکی گیٹ کے دیوار کے ذریعے جوڑا ھوا تھا لیکن اب وہ بھی نہیں ھے-



0 comments:
Post a Comment