Mirrot--------- میرٹ
اوپن یونیورسٹی کوالالمپور میں ڈیسٹینس ایجوکیشن پر ایک کانفرنس تهی...دنیا بهرسے پی ایچ ڈی پروفیسرز اور وائس چانسلرز آئے تهے.....کوئی ڈبل پی ایچ ڈی تها....کوئی ٹرپل پی ایچ ڈی تها....ایسے ایسے سبجیکٹس میں لوگوں نے پی ایچ ڈی کی تهی کہ نام بهی نہیں سنا تها.....پاکستان سے بهی کافی پروفیسرز تهے....تین روزه کانفرنس تهی....میرا ایک دوست بهی کانفرنس میں شریک تها.....اس کے ساتھ رومیٹ ایک انڈین پروفیسر تها.....راوی نے کہا کہ کانفرنس کے آخری دن شام کو هم کیفے میں کچھ لوگ بیٹهے تهے کہ میرا انڈین روم میٹ کہنے لگا کہ ہم نے بڑا سنا تها کہ پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی کر لی هے اور آئی ٹی میں ترقی کر لی هے لیکن اس کانفرنس سے مجهے پتہ چلا کہ آپ لوگوں نے کتنی ترقی کی هے...میں واپس جا کر اپنے اسٹوڈنٹس کو بتاوں گا کہ پاکستان کی ترقی کے بارے میں ہم نے جو سنا تها وه سب جهوٹ تها...پاکستان میں ترقی کے امکانات ابهی بالکل بهی نہیں ہیں......
کہنے لگا میری رگ غیرت پهڑک اٹهی چونکہ ایک انڈین نے هماری برائی کی تهی اور کچھ عرب، انگریز اور سری لنکن اس کی باتیں بڑی غور سے سن رهے تهے..اپنے ملک کی عزت کی خاطر میں نے مبالغہ سے کام لے کر پی ایچ ڈی کی تعداد ڈبل کر دی...یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کیا....تنخواهوں اور انسینٹوز میں مبالغہ کیا......
انڈین کہنے لگا...میرے پیارے پاکستانی دوست...هم پروفیسرز هیں...علم بانٹنے والے. ..هم سپاهی نہیں هیں کہ سرحد پر کهڑے هو کر ایک دوسرے کو نیچا دکهانے کی کوشش کریں...یہ جو میں نے بات کی هے یہ آپ کے لیے ہی کی هے تاکہ آپ جا کر اپنے لوگوں کو بتا سکیں کہ آپ سے غلطی کہاں هو رهی هے....اب میں بتاتا هوں کہ میں نے یہ کیوں کہا؟؟؟
اس کانفرنس میں دنیا بهر سے وائس چانسلرز اور پروفیسرز شریک هیں....کسی نے مقالہ پیش کیا...کسی نے نئی تحقیق کی جانب توجہ دلائی....سب نے اپنی اپنی فلیڈ کے بارے میں بہت سارے حقائق بیان کیے...اپنے تجربات شیئر کیے.....اب سنیے....
آپ کا ایک وائس چانسلر ایسا تها جو ڈیسٹینس لرنگ یونیورسٹی کا وائس چانسلر تها لیکن ایگرکلچر میں پی ایچ ڈی تها.......آپ کا ایک وائس چانسلر تها جو صرف ماسٹر ڈگری ہولڈر تها اور اس کا تجربہ ٹی وی میں پروڈیوسراور ایم ڈی کا تها.......آپ کا ایک وائس چانسلر تو ایک برگیڈئیر ریٹائرڈ تها جس نے اپنی تقریر میں توپوں اور ٹینکوں پر روشنی ڈالی.......
جن قوموں کے اعلی ترین اداروں کے سربراه سفارش سے منتخب ہوتے ہوں وه قومیں ترقی نہیں کرتی میرے دوست.......
دوست سے کہا شکر کرو عزت بچ گئی...اگر اس کو پتہ هوتا کہ آپ کے پی آئی اے کا چیرمین بهی ایگریکلچر میں ڈپلومہ هولڈر هے تو؟؟؟؟؟
آپ آج ایک کام کریں...گوگل شریف پر جائیں اور وزیر اعظم سے لے کر وزیر مذہبی امور تک سب کی تعلیم پر ایک نظر ڈال لیں لگ پتہ جائے گا کہ ہم کہاں کهڑے ہیں...پهر ذرا ایک نظر مختلف یونیورسٹیز کے چانسلرز پر ڈال لیں....میرٹ اور تجربہ کار ٹیم کا پول کهل جائے گا.......دودھ کا دودھ نہیں ہو گا صرف پانی کا پانی ہو گا..اور پهر اس چلو بهر پانی میں ڈوب مرنے کا بهی دل نہیں کرے گا کیونکہ ہم زنده قوم ہیں...ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے ہاں جیتیں گے....
0 comments:
Post a Comment